چاول کے فائدے!
چاول کے فوائد
چاول دنیا کی سب سے زیادہ کھائی جانے والی خوراک ہے۔ پاکستان، انڈیا، چین اور مشرق بعید کے ممالک میں یہ روزمرہ کی غذا کا لازمی حصہ ہے۔ چاول صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں کھایا جاتا، بلکہ اس میں موجود غذائی اجزاء جسم کو کئی طریقوں سے فائدہ دیتے ہیں۔
1. فوری توانائی کا ذریعہ
چاول میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک کپ پکے ہوئے چاول سے تقریباً 45 گرام کاربوہائیڈریٹ ملتا ہے جو جسم کو فوری توانائی دیتا ہے۔ دماغ کا بنیادی ایندھن گلوکوز ہے اور چاول سے ہمیں گلوکوز آسانی سے مل جاتا ہے۔ اسی لیے مزدور، کھلاڑی اور محنت کا کام کرنے والے لوگ چاول کو اپنی خوراک میں شامل رکھتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں چاول کھا لینے سے شام تک تھکاوٹ کم محسوس ہوتی ہے۔
2. ہضم کے لیے آسان اور ہلکا
چاول ہضم ہونے میں بہت آسان ہے۔ اس میں فائبر کم ہوتا ہے، اس لیے معدہ اسے جلدی توڑ دیتا ہے۔ جن لوگوں کو معدے کی تیزابیت، السر یا IBS کا مسئلہ ہو، ڈاکٹر انہیں اکثر چاول کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سفید چاول تو دست لگنے کی صورت میں بھی دیا جاتا ہے کیونکہ یہ پانی جذب کر کے پاخانہ گاڑھا کرتا ہے۔ سفید چاول الرجی نہیں کرتا، اس لیے بچوں کی پہلی غذا بھی چاول کی کھیر یا دلیہ ہی ہوتی ہے۔
3. گلوٹن فری غذا
گندم، جو اور جوار میں گلوٹن پایا جاتا ہے جس سے سیلیک بیماری والے لوگوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔ چاول میں قدرتی طور پر گلوٹن نہیں ہوتا۔ اس لیے جو لوگ گلوٹن سے الرجی رکھتے ہیں، وہ روٹی کی جگہ چاول روٹی، چاول کے نوڈلز یا سادہ چاول بے فکر ہو کر کھا سکتے ہیں۔ بازار میں اب چاول کے آٹے سے بنے بسکٹ، بریڈ اور پاستہ بھی ملنے لگے ہیں۔
4. وٹامنز اور منرلز کا خزانہ
براؤن چاول یعنی بھورے چاول میں وٹامن B1، B3، B6، میگنیشیم، فاسفورس، مینگنیز اور سیلینیم ہوتا ہے۔ وٹامن B دماغ اور اعصاب کے لیے ضروری ہے۔ میگنیشیم بلڈ پریشر کنٹرول کرتا ہے اور پٹھوں کو سکون دیتا ہے۔ سفید چاول میں فائبر کم ہو جاتا ہے کیونکہ چھلکا اتار دیا جاتا ہے، لیکن اسے بھی آئرن اور فولک ایسڈ سے فورٹیفائی کیا جاتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے فولک ایسڈ والا چاول بہت مفید ہے کیونکہ یہ بچے کی نشوونما میں مدد دیتا ہے۔
5. بلڈ پریشر اور دل کے لیے مفید
چاول میں سوڈیم بہت کم ہوتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو ڈاکٹر کم نمک والی غذا دیتے ہیں، تو سادہ ابلے چاول ان کے لیے بہترین ہیں۔ براؤن چاول میں موجود فائبر اور میگنیشیم خون کی نالیوں کو لچکدار رکھتے ہیں۔ روزانہ ایک کٹوری براؤن چاول کھانے سے دل کی بیماری کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ براؤن چاول کولیسٹرول بھی نہیں بڑھاتا۔
6. وزن کنٹرول میں مددگار
لوگ سمجھتے ہیں چاول کھانے سے موٹاپا ہوتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سادہ ابلے چاول میں چکنائی صفر ہوتی ہے۔ اگر سالن کم تیل والا ہو اور چاول کی مقدار کنٹرول میں رکھی جائے تو وزن آسانی سے مینٹین رہتا ہے۔ براؤن چاول کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، یعنی شوگر آہستہ آہستہ خون میں شامل ہوتی ہے۔ اس سے بار بھوک نہیں لگتی۔ ڈائٹنگ کرنے والے لوگ سفید چاول کی جگہ براؤن چاول لے لیں تو فائدہ ہو گا۔
7. جلد اور بالوں کے لیے
چاول کے پانی یعنی چاول اُبالنے کے بعد بچا ہوا پانی صدیوں سے بیوٹی ٹپ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس میں وٹامن E، انوسٹول اور اسٹارچ ہوتا ہے جو جلد کو ٹائٹ کرتا ہے، دانوں کے نشان ہلکے کرتا ہے اور بالوں کو چمک دیتا ہے۔ جاپانی اور کورین خواتین چاول کا فیس ماسک لگاتی ہیں۔ چاول کا پاؤڈر پسینہ جذب کر کے چکنی جلد کو میٹ کرتا ہے۔
8. ذیابیطس کے مریضوں کے لیے احتیاط کے ساتھ فائدہ
سفید چاول کا گلائیسیمک انڈیکس زیادہ ہے، اس لیے شوگر کے مریض زیادہ نہ کھائیں۔ لیکن براؤن چاول، براؤن باسمتی یا ابائل چاول شوگر کو آہستہ بڑھاتے ہیں۔ اگر چاول کے ساتھ دالیں، سبزیاں، دہی یا پروٹین شامل کر لیا جائے تو شوگر کا سپائک کنٹرول ہو جاتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک کپ سے زیادہ پکا چاول نہ کھایا جائے۔
9. ہر موسم کی غذا
گرمی میں چاول کا دہی کے ساتھ کھانا جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ سردی میں چاول اور دال کھانے سے جسم کو گرم توانائی ملتی ہے۔ چاول نہ گرم ہے نہ سرد، اس لیے یہ مزاج کے لحاظ سے معتدل غذا ہے۔ یونانی طب میں بھی چاول کو معتدل مزاج مانا گیا ہے۔
10. سستا اور آسانی سے دستیاب
گوشت، ڈرائی فروٹ یا سپلیمنٹ مہنگے ہیں۔ چاول ہر گھر کے بجٹ میں آ جاتا ہے۔ ایک کلو چاول سے 8-10 لوگوں کا کھانا بن جاتا ہے۔ اسے دال، سبزی، سالن، قیمہ، چنے، لوبیا، ہر چیز کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔ غریب سے غریب گھرانہ بھی چاول سے پیٹ بھر سکتا ہے۔
احتیاط کی بات
چاول کے فائدے تب ہی ملیں گے جب اسے متوازن طریقے سے کھایا جائے۔ روز سفید چاول، روز تیل والا پلاؤ کھانے سے وزن بڑھے گا اور شوگر بھی۔ ہفتے میں 3-4 دن چاول کافی ہیں۔ بہتر ہے کہ سفید چاول کی جگہ کبھی کبھار براؤن چاول، براؤن باسمتی یا لال چاول استعمال کیا جائے۔ چاول کو خوب پانی میں ابال کر مادہ نکال دیں تو آرسینک کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔
نتیجہ
چاول صرف ایک سستی خوراک نہیں، بلکہ توانائی، ہضم، دل، شوگر، جلد اور بجٹ سب کے لیے فائدہ مند ہے۔ شرط صرف اعتدال کی ہے۔ اگر آپ روٹی سے اکتا گئے ہیں تو ہفتے میں چند دن چاول کو اپنی غذا میں شامل کر لیں۔ جسم کو وہ تمام غذائی اجزاء مل جائیں گے جو صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

Comments
Post a Comment